ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / فوجی بغاوت، ترکی میں پھانسی کی سزاؤں پربحث دوبارہ شروع

فوجی بغاوت، ترکی میں پھانسی کی سزاؤں پربحث دوبارہ شروع

Mon, 18 Jul 2016 18:32:52    S.O. News Service

ترک صدر کا حامیوں سے جمعہ تک احتجاج جاری رکھنے کا مطالبہ

استنبول،18جولائی؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث عناصر کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچانے میں کسی قسم کی تاخیر قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بغاوت میں مجرم قرار دیے جانے والوں کو بلا تاخیر سزائے موت دی جانی چاہیے۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اپنے ایک بیان میں ترک صدر نے کہا کہ وہ بغاوت میں ملوث عناصر کی سزائے موت کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں سے بات کریں گے۔قبل ازیں انہوں نے استنبول میں اپنے رہائش گاہ پر جمع اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا جس میں انہوں نے صدر سے مطالبہ کیا بغاوت میں ملوث عناصر کو پھانسی دی جائے۔ اس پر صدر نے کہا کہ ہم اس مطالبے کو نظر انداز نہیں کرتے۔ اس پر اپوزیشن سیاسی جماعتوں سے بات کی جائے گی۔خیال رہے کہ ترکی نے سنہ 2004ء میں یورپی یونین میں شمولیت کے لیے راہ ہموار کرنے کی خاطر ملک میں سزائے موت کا قانون منسوخ کردیا تھا۔ سنہ 1984ء کے بعد ترکی میں سزائے موت کا کوئی واقعہ ریکارڈ پر موجود نہیں۔ترک صدر ایردوآن نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ فوجی بغاوت کی سازش کے خلاف آئندہ جمعہ تک سڑکوں اور میدانوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بغاوت کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ اس لیے عوام کو احتجاج جاری رکھنا ہوگا۔


Share: